Farewell Speech delivered by a student

اتفاق کی بات ہے میرے ساتھیو میں جب پہلی دفعہ اس درسگاہ میں آیئ تو تب بھی میری آنکھوں میں آنسو اور دل گھبراہٹ کا شکار تھا اور اب کہ جب میں اس جگہ کو الوداع کہنے جا رہی ہوں تو آنکھوں میں آنسو ہیں لیکن اب کی بار حالات یکسر مختلف ہیں اب یہ میری آنکھوں کہ اشک جانے کے غم کے عکاس ہیں۔ میں جب یہاں آئ تو مجھے نہ دین کی خبر تھی نہ دنیا، لیکن اب جب میں جا رہی ہوں تو دنیا میرے سامنے کھلے اوراق کی مانند ہے۔ میں جب یہاں آئ تو مجھے گھٹن محسوس ہوئ لیکن اب جا رہی ہوں تو باہری دنیا قید خانہ معلوم پڑتا ہے۔

لیکن ابھی تو منزل کی پہلی سیڑھی ہم نے طہہ کی ہے ابھی اور سفر بھی باقی ہے لیکن اگر ابتدا میں سامان سفر عمدہ ملے تو کیونکر باقی سفر مشکل میں گزرے۔ اور ہمیں وہ ساماں جہاں سے میسر ہوا یہی وہ مقام ہے۔ کوئ بھی انسان کسی بھی قسم کے علم کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتا اور میں تو ایک پورے ایک علمی مرکز کی بات کر رہی ہوں۔  میرے ساتھیو چراغ تو وہی ہوتا ہے جو خود کے علاوہ ہر شے کو روشن کرتا ہے تو  اس گارے اور پتھروں سے بنی اس عمارت کو مت دیکھو بلکہ اس سے ہونے والے اجالوں کو دیکھو۔ اور تم بھی یہ  اجالا پھیلانے والے ستاروں میں سے کوئ ستارہ بننے کا عزم کرو۔

یہاں گزرے ہوۓ چند سالوں کا ہر ہر دن خیالات میں گزرتا ہے۔ ہر گزرا میرے سوچ کے دائرہ کار وسیع کرتا رہا۔  میرے علم کے ذخیرے کو اونچا کرتا رہا۔ میں کیوں نہ شکرگزا ہوں اس مقام کی یہاں سے گزرے یا موجود ان کارسازوں کی جو ہمارے ذہنوں کو تزین کرتے رہے ہمین بھٹکنے سے بچاتے رہے اور بالاخر وہ ہمیں جہالیت کی آندھیوں سے بچاتے بچاتے بحفاظت یہاں تک لے آۓ۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ ہم اتنا سفر طہ کر چکے ان کے ہمراہ لیکن وہ پھر بھی اپنے مقام پر ٹھہرے ہیں۔ الفاظ کم پڑتے  ہیں انھیں خراج پیش کرنے کے لیے۔

یہ گھر مرا گلشن ہے گلشن کا خدا حافظ
اللہ    نگہبان    نشیمن    کا    خدا حافظ

No comments:

Post a Comment

راۓ کا اظہار کریں۔