Is Shart Pe Khelon....

اس شرط پہ کھیلوں گی پِیا پیار کی بازی
جیتوں تو تُجھے پاؤں ہاروں تو پِیا تیری

ہر لحظ خیال رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اور اُٹھ جاؤں تو بھی تیری

کچھ کر لوں حال اپنا ایسا ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پر پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری رُوٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ دوں تیرا کچھ ایسے جانِ جہاں
زِندہ رہوں توبھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری

Ashkoon Ko Meri...

اشکوں کو مری آنکھ میں آنے نہیں   دیتا
اک شخص مجھے سوگ منانے نہیں دیتا

وہ اپنی اداؤں سے رجھاتا ہے مجھے  روز
لیکن مجھے نزدیک بھی آنے نہیں   دیتا

وہ خود بھی نہیں کرتا میرے غم کا مداوہ
آواز بھی اوروں کو لگانے    نہیں        دیتا

میں ملنے بچھڑنے سے تڑپنے تلک آیا
یہ کس نے کہا عشق زمانے نہیں دیتا

آنکھیں بھی کروں بند تو رہتا ہے مقابل
آئینہ تو چہرہ بھی چھپانے نہیں دیتا

پندار یہ کہتا ہے کہ سر جھکنے نہ پائے
احسان مگر سر ہی اٹھانے نہیں    دیتا

وہ خواب جو آنکھوں میں سمانے پہ بضد ہے
کمبخت مجھے نیند بھی آنے       نہیں   دیتا

اک میری تمنا ہے کہ جی بھر تجھے دیکھوں
اک حسن ترا آنکھ اٹھانے نہیں دیتا

اک درد کہ اب سہنے کی طاقت نہیں مجھ میں
اک ڈر ہے کہ دنیا کو بتانے نہیں دیتا

ہر لمحہ بدلتے ہوئے جذبوں کا تلاطم
رستے پہ قدم مجھ کو جمانے نہیں دیتا

اک پل میں بدلتا ہے وہ حالت مرے دل کی
چہرے پہ کوئی رنگ بھی آنے نہیں دیتا

وہ خوف نہیں ہے تو بھلا کیا ہے؟  جو احساس
فریادی کو زنجیر ہلانے نہیں دیتا

تم نے مجھے اک بار بھی روکا نہیں؟ حد ہے!!
میں ہوتا تو ہرگز تمہیں جانے نہیں دیتا

دیتا ہوں سبق ہنس کے ستم سہنے کا اس کو
میں دل کو کبھی شور مچانے نہیں دیتا

Farewell Speech delivered by a student

اتفاق کی بات ہے میرے ساتھیو میں جب پہلی دفعہ اس درسگاہ میں آیئ تو تب بھی میری آنکھوں میں آنسو اور دل گھبراہٹ کا شکار تھا اور اب کہ جب میں اس جگہ کو الوداع کہنے جا رہی ہوں تو آنکھوں میں آنسو ہیں لیکن اب کی بار حالات یکسر مختلف ہیں اب یہ میری آنکھوں کہ اشک جانے کے غم کے عکاس ہیں۔ میں جب یہاں آئ تو مجھے نہ دین کی خبر تھی نہ دنیا، لیکن اب جب میں جا رہی ہوں تو دنیا میرے سامنے کھلے اوراق کی مانند ہے۔ میں جب یہاں آئ تو مجھے گھٹن محسوس ہوئ لیکن اب جا رہی ہوں تو باہری دنیا قید خانہ معلوم پڑتا ہے۔

لیکن ابھی تو منزل کی پہلی سیڑھی ہم نے طہہ کی ہے ابھی اور سفر بھی باقی ہے لیکن اگر ابتدا میں سامان سفر عمدہ ملے تو کیونکر باقی سفر مشکل میں گزرے۔ اور ہمیں وہ ساماں جہاں سے میسر ہوا یہی وہ مقام ہے۔ کوئ بھی انسان کسی بھی قسم کے علم کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتا اور میں تو ایک پورے ایک علمی مرکز کی بات کر رہی ہوں۔  میرے ساتھیو چراغ تو وہی ہوتا ہے جو خود کے علاوہ ہر شے کو روشن کرتا ہے تو  اس گارے اور پتھروں سے بنی اس عمارت کو مت دیکھو بلکہ اس سے ہونے والے اجالوں کو دیکھو۔ اور تم بھی یہ  اجالا پھیلانے والے ستاروں میں سے کوئ ستارہ بننے کا عزم کرو۔

یہاں گزرے ہوۓ چند سالوں کا ہر ہر دن خیالات میں گزرتا ہے۔ ہر گزرا میرے سوچ کے دائرہ کار وسیع کرتا رہا۔  میرے علم کے ذخیرے کو اونچا کرتا رہا۔ میں کیوں نہ شکرگزا ہوں اس مقام کی یہاں سے گزرے یا موجود ان کارسازوں کی جو ہمارے ذہنوں کو تزین کرتے رہے ہمین بھٹکنے سے بچاتے رہے اور بالاخر وہ ہمیں جہالیت کی آندھیوں سے بچاتے بچاتے بحفاظت یہاں تک لے آۓ۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ ہم اتنا سفر طہ کر چکے ان کے ہمراہ لیکن وہ پھر بھی اپنے مقام پر ٹھہرے ہیں۔ الفاظ کم پڑتے  ہیں انھیں خراج پیش کرنے کے لیے۔

یہ گھر مرا گلشن ہے گلشن کا خدا حافظ
اللہ    نگہبان    نشیمن    کا    خدا حافظ

Humaray Jese Wahaan...

ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے

کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

Allama Muhammad Iqbal's 25 Most famous verses

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ  روتی  ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہور پیدا


جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر     ڈوبے  اُدھر نکلے  اُدھر  ڈوبے  اِدھر  نکلے


نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو  تو یہ  مٹی  بڑی  زرخیز   ہے  ساقی



پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس  کی  گردِراہ ہوں  وہ کارواں تو ہے


نہیں یہ شانِ خودداری، چمن سے توڑ کر تجھکو
کوئ دستار میں  رکھ لے  کوئ  زیب  گلو  کر  لے


فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج  ہے  دریا میں،  بیرونِ دریا  کچھ  نہیں


کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے  بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی


تم ہو  اک  زندہ و جاوید  روایت  کے  چراغ
تم کوئ شام کا سورج ہو جو ڈھل جاؤ گے


ترے   علم و محبت   کی   نہیں   ہے   انتہا   کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر  سازِفطرت میں نوا کوئ


قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے   اجالا  کر دے


حرم رسوا ہوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے
جوانانِ تتاری کس قدر صاحبِ نظر نکلے


زباں سے کر گیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل
بنایا   ہے   نت   پندار     کو   اپنا  خدا   تو    نے


تو شاہین ہے  پرواز  ہے  کام   تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں


مٹ جاۓ گا گناہ کا تصور ہی جہاں سے اقبال
اگر  ہو  جاۓ  یقیں  پیدا  کہ خدا  دیکھ رہا  ہے


غلامی میں نہ کام  آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ  یقیں پیدا تو کٹ  جاتی  ہیں  زنجیریں


دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب  ابھرا  گیا  دورِ  گراں  خوابی


نہ تو ذمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے



توحید کی امانت ہے سینوں میں ہمارے
آساں    نہیں   مٹانا     نام و نشان   ہمارا


خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميری ابتدا کيا ہے
کہ ميں اس فکر ميں رہتا ہوں ، ميری انتہا کيا ہے


اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے ميں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبريا کيا ہے

Main Hon Is Shahar Main ....

میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
مجھ  کو  اک  اور   زمانے   میں   بڑی   دیر  لگی

Jis Ne Seekha Hi Nahi....

جس نے سیکھا ہی نہیں زہر کو امرت کرنا
خاک آئے گا   بھلا   اس   کو   محبت    کرنا

ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﺸﮑﻞ ﮬـﮯ ﺍﺫﯾﺖ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﺭﺍ   ﮐﺮﻧﺎ
ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﮬﻮﮰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺍ    ﮐﺮﻧﺎ

Jamaal E Yaar Se...

‏؎
جمالِ یار سے آنکھوں میں عکس بنتا ہے
عکس جب رُوح میں اُترے تو نقش بنتا ہے

آؤ ، میں سمجھاؤں رقص کی تشکیل
رُوح جب وجد میں آئے، تو رقص بنتا ہے

Tum Ne Bas Tark-e-Taluq ...

تُم نے بَس ترکِ تعلق کو______، غنیمت جانا
مانگنے والے__        ، میری جان تو مانگی ہوتی

Teri Justjoo Ke Hisaar ....

تیری جستجو کے، حصار سے
تیرے خواب، تیرے خیال سے

میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا
تیری چاہتوں سے___، ذرا پرے

کبھی دل کی بات کہی نہ تھی
جو کہی تو وہ بھی، دبی دبی

میرے لفظ پورے تو تھے، مگر
تیری سماعتوں سے، ذرا پرے

تُو چلا گیا_____، میرے ہمسفر
ذرا دیکھ مُڑ کے__، تُو اِک نظر

میری کشتیاں ہیں__، جلی ہوئی
تیرے ساحلوں سے، ذرا پرے

Mere Aks Main...

‏میرے عکس میں____تیرا عکس ہو---
تجھے______آئینےمیں اتار دوں---

میں زمانے بھر کی_____حقیقتیں---
تیرے ایک جھوٹ پہ_____وار دوں---

Mere Aks Main Tera Aks Ho
Tujhe Aayene Main Utaar Doñ

Main Zamaanay Bhar Ki Haqeeqatain
Tere    Ek   Jhoot   Pe    Vaar Doñ

Tujhe Kion Weham ....

تیری جستجو کے، حصار سے
تیرے خواب، تیرے خیال سے

میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا
تیری چاہتوں سے___، ذرا پرے

کبھی دل کی بات کہی نہ تھی
جو کہی تو وہ بھی، دبی دبی

میرے لفظ پورے تو تھے، مگر
تیری سماعتوں سے، ذرا پرے

تُو چلا گیا_____، میرے ہمسفر
ذرا دیکھ مُڑ کے__، تُو اِک نظر

میری کشتیاں ہیں__، جلی ہوئی
تیرے ساحلوں سے    ، ذرا پرے

Mujh Ko Fursat ....

مجھ کو فرصت کہاں موسم سہانا دیکھوں ..!!
میں تیری یاد سے نکلوں ___ تو زمانہ دیکھوں ..!!

Mujh Ko Fursat Kahaan K Mosam Suhaana Dekhon
Main   Teri  Zaat  Se  Nikloon  To  Zamaana Dekhon

Jama Tum Ho Nahi Sk....

جمع تُم ہو نہیں سکتے، ہمیں منفی سے نفرت ہے
تُمہیں تقسیم کرتا ہوں تو حاصل کُچھ نہیں آتا

کوئی قاعدہ، کوئی کُلیہ نہ لاگو تُجھ پہ ہو پائے
ضرب تُجھ کو اگر دوں تو حِسابوں میں خلل آئے

اِکائی کو دِہائی پر، میں دُوں نِسبت تو کیسے دُوں
نہ الجبراء سے لگتے ہو، نہ کوئی ڈِگری نِکل پائے

عُمر یہ کٹ گئی میری، تُمہیں ہمدم سمجھنے میں
جو حل تیرا اگر نِکلے، تو سب کُچھ ہی اُلجھ جائے

صفر تھی ابتداء میری صفر ہی اب تلک تم ہو
صفر ضربِ صفر ہو تم نہ جس سے کچھ فرق آئے

Ilam O Adab K Khazaanay....

علم وادب کے سارے خزانے گزر گئے
کیا خوب تھے وہ لوگ پرانے گزر گئے

باقی ہے زمین پہ فقط آدمی کی بھیڑ
انساں کو مرے ہوئے تو زمانے گزر گئے

Ilam O Adab K Sare Khazaanay Guzar Gaye
Kya Khoob Thy Wo Log Puranay Guzar Gaye

Baaqi Hai  Zameen Pe   Faqat   Aadmi Ki  Bheer
Insaañ Ko Maray Huye To Zamaanay Guzar Gaye

Na Chahtay Huye B....

‏نہ   چاہتے  ہوے  بھی  یہ   عشق   دیوانہ   بنا  دیتا   ہے
خدا دل تو دیتا ہے لیکن دھڑکن کسی اور کو بنا دیتا ہے

Na   Chaahtay   Huye  B Ye Ishq   Deevaana   Bana   Deta    Hai
Khuda Dil To Deta Ha Lekin Dharkan Ksi Aur Ko Bana Deta Hai